مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: مشرقی بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کی اسرائیل کی دھمکی محض تل ابیب اور لندن کے درمیان ایک سفارتی اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ پورے بیت المقدس پر اپنی حاکمیت کے دعوے کو مستحکم کرنے، آزادانہ غیر ملکی موجودگی کو محدود کرنے اور مسئلہ فلسطین کی بین الاقوامی حیثیت کو کمزور کرنے کی اسرائیل کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کی تجارت پر پابندیاں عائد کرنے اور بستیوں کی تعمیر سے وابستہ کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے دھمکی دی کہ وہ مشرقی بیت المقدس میں اس ملک کا قونصل خانہ بند کر دے گا۔ یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی جب لندن نے اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ان سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔
بالآخر قونصل خانے کی عمارت بند نہیں کی گئی، لیکن اس کی حیثیت تبدیل کر دی گئی اور اس کی سرگرمیاں ’’بیت المقدس میں برطانوی مشن‘‘ کے عنوان سے جاری رہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں سفارتی عملے کی تعداد کم کر دی گئی، تاہم برطانوی حکومت کا اصرار ہے کہ یہ مشن بدستور تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے آزادانہ طور پر کام کرے گا اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھے گا۔ اس کے باوجود لندن کی سفارت کاروں کی تعداد میں کمی کو محض ایک انتظامی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا؛ یہ تبدیلی بیت المقدس کی حیثیت اور فلسطین کے مستقبل سے متعلق سیاسی تنازع کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
بیت المقدس؛ ایک سفارتی اختلاف سے ماورا
بیت المقدس کو طویل عرصے سے بین الاقوامی تعلقات میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ 1947 میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے میں اس شہر کے لیے ایک الگ بین الاقوامی انتظام کا تصور پیش کیا گیا تھا، تاہم اس منصوبے پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اسرائیل نے 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور 1980 میں ایک قانون منظور کرکے اس شہر کو اپنا نام نہاد دارالحکومت قرار دے دیا۔ اس کے باوجود عالمی برادری کی بڑی اکثریت نے مشرقی بیت المقدس کے الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور یہ علاقہ اب بھی مقبوضہ سرزمین تصور کیا جاتا ہے۔
مشرقی بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بھی اسی تاریخی اور سیاسی حیثیت کے باعث محض ایک عام سفارتی دفتر نہیں ہے۔ یہ تل ابیب میں برطانوی سفارت خانے سے الگ اور آزادانہ طور پر کام کرتا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ لندن کے تعلقات، مقبوضہ علاقوں کی صورت حال پر نظر رکھنے اور بعض قونصلر خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ اسرائیل میں برطانوی سفارت خانے سے اس ادارے کی آزادی عملاً ظاہر کرتی ہے کہ لندن مشرقی بیت المقدس کو اسرائیلی حاکمیت کے تحت آنے والے دیگر علاقوں سے الگ حیثیت دیتا ہے۔
اسی لیے قونصل خانے کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کو بیت المقدس پر حاکمیت کے تنازع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسرائیل اس شہر کی وحدت اور اسے اپنا دارالحکومت قرار دینے کے دعوے کو مضبوط کرنا چاہتا ہے؛ اس کے برعکس، شہر کے مشرقی حصے میں غیر ملکی نمائندہ اداروں کی آزادانہ سرگرمیوں کا جاری رہنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں اس علاقے کی حیثیت اب بھی غیر حل شدہ ہے۔
بستیوں کی تعمیر؛ لندن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب
حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں سے وابستہ تجارت کے خلاف پابندیوں پر مبنی اقدامات کا اعلان کیا۔ یہ پالیسیاں بستیوں کی توسیع اور فلسطینی علاقوں کے مستقبل سے متعلق خدشات کے ردعمل میں سامنے آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے نزدیک مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور انہیں فلسطین کے تنازع کے سیاسی حل کی راہ میں حائل اہم رکاوٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس مسئلے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب بستیوں کی توسیع کے ساتھ ایسے منصوبے بھی شامل ہوں جو فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو محدود کرتے ہیں۔ مشرقی بیت المقدس میں ’’ای ون‘‘ (E-1) کے نام سے معروف منصوبہ بھی انہی منصوبوں میں شامل ہے۔ اس کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کو منقطع کر سکتا ہے اور ایک ایسے فلسطینی ملک کے قیام کے امکانات کو کم کر سکتا ہے جس کی سرزمین جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہو۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے بارے میں اسرائیل کے بعض اعلیٰ حکام کے بیانات نے بھی ان پالیسیوں کے سیاسی مقاصد کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
ایسے حالات میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کی دھمکی کو اسرائیل پر بیرونی دباؤ میں اضافے کے خلاف ایک سیاسی ردعمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے دوسرے ممالک کو واضح پیغام ملتا ہے کہ بستیوں کی تعمیر کی مخالفت اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کے نتیجے میں بیت المقدس میں ان کی سفارتی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، صرف اس دھمکی کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل کا مقصد محض برطانیہ کی مخالفت کرنا ہے؛ اس کے وسیع تر اثرات میں ایسے نمائندہ اداروں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے جو اسرائیلی پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہیں۔
برطانیہ کی موجودگی میں کمی؛ اسرائیل کی کامیابی یا لندن کی محدود پسپائی؟
قونصل خانے کے عنوان میں تبدیلی اور برطانوی سفارت کاروں کی تعداد میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی دباؤ کے نتیجے میں کم از کم لندن کی سفارتی موجودگی کا ایک حصہ محدود ہوا ہے۔ تاہم، اس ادارے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا اور برطانیہ نے اپنے مشن کی آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ لہٰذا اس تبدیلی کو اسرائیل کی مکمل کامیابی قرار دینا درست نہیں ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے عملے کی تعداد میں کمی اور عملی پابندیوں کو نظر انداز کرکے اسے برطانیہ کی غیر مشروط کامیابی بھی نہیں کہا جا سکتا۔
برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ مشن بدستور فعال رہے گا اور فلسطینی عوام سے متعلق خدمات اور سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ لندن نے مشرقی بیت المقدس کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا اور اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کو قانونی طور پر اس نمائندہ ادارے کو بند کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلاف اب بھی برقرار ہے، اگرچہ فوری طور پر کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے وہ نئے انتظامات پر متفق ہو گئے ہیں۔
اس کے باوجود عملے کی تعداد میں کمی سے برطانوی مشن کی میدانی صورت حال پر نظر رکھنے اور فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی عملی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اس فیصلے کے نتائج کا جائزہ محض ایک سفارتی ادارے کے نئے نام کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور آزادانہ کردار ادا کرنے کی اس کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے۔
فلسطین کے مسئلے کو حل کیے بغیر سفارت کاری کو محدود کرنا
برطانوی قونصل خانے کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ بیت المقدس پر تنازع صرف علاقے کے کنٹرول تک محدود نہیں ہے؛ اس میں سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور فلسطین کی صورت حال کے بارے میں عالمی تصور کو تشکیل دینے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ غیر ملکی نمائندہ اداروں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے سے ان کی آزادانہ موجودگی اور آواز کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اس سے مقبوضہ علاقوں کی قانونی حیثیت خودبخود تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی مسئلہ فلسطین بین الاقوامی ایجنڈے سے خارج ہوتا ہے۔
بالآخر مغربی حکومتوں کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ آیا وہ بستیوں کی تعمیر کی مخالفت اور سیاسی حل کی حمایت سے متعلق اپنے اعلانیہ مؤقف کو عملی اقدامات سے جوڑتی ہیں یا اسرائیلی دباؤ کے سامنے اپنی موجودگی اور سرگرمیوں کو محدود کرنے پر رضامند ہو جاتی ہیں۔ اگر سفارتی نمائندہ اداروں کو بند کرنے کی دھمکی اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کی قیمت بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس رجحان کے اثرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ بین الاقوامی قانون سے وابستگی کے بارے میں مغرب کے دعوؤں کی ساکھ پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس تناظر میں برطانوی قونصل خانے کا بحران بیت المقدس کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے قومی حقوق کی تکمیل کے امکانات سے متعلق ایک وسیع تر تنازع کا حصہ ہے۔
آپ کا تبصرہ